You are currently viewing Water ( پانی )

Water ( پانی )

Water ( پانی )

روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینا ہارٹ فیلیئر کے خطرے کو کم کرسکتا ہے

پانی زندگی کے لیے بہت اہم ہے مگر اس کو کم پینے کی عادت جان لیوا ہارٹ فیلیئر کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

نیشنل ہارٹ، لنگ اینڈ بلڈ انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ زندگی بھر روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینا ہارٹ فیلیئر کے خطرے کو کم کرسکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ مناسب مقدار میں پانی پینا ہارٹ فیلئر کاخطرہ بڑھانے والی تبدیلیوں کی روک تھام یا ان کی رفتار سست کرسکتا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا کہ لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پر پانی کی مقدار پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور کم پینے پر اقدامات کرنے چاہیے۔

طبی ماہرین کی جانب سے خواتین کو روزانہ 1.6 سے 2.1 لیٹر اور مردوں کو 2 سے 3 لیٹر پانی پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے مگر بیشتر افراد اس سے کم مقدار میں پانی پیتے ہیں۔

جب لوگ پانی کم پیتے ہیں تو جسم میں نمکیاتجمع ہونے کی مقدار بڑھتی ہے جس سے ہارٹ فیلئر کا باعث بننے والا عمل متحرک ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ کم مقدار میں نمکیات کا اجتماع طویل عرصے تک ہونا پانی کم پینے کا نتیجہ ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں درمیانی عمر کے افراد میں جسم میں نمکیات کے اجتماع کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے آئندہ 25 برسوں میں ہارٹ فیلیئر کے خطرے کی پیشگوئی کی گئی۔

محققین نے مناسب مقدار میں پانی پینے اور دل کی بائیں شریان کی دیوار کی موٹائی کے درمیان تعلق کی بھی جانچ پڑتال کی۔

تحقیق میں 44 سے 66 سال کی عمر کے 15 ہزار سے زیادہ افراد کو شامل کیا گیا تھا اور 5 بار ان کی جانچ پڑتال اس وقت تک کی گئی جب ان کی عمریں 70 سے 90 سال تک نہیں ہوگئیں۔

ان افراد کو نمکیات کے اجتماع کے مطابق 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا تھا۔

محققین نے دریافت کیا کہ درمیانی عمر میں نمکیات کا زیادہ اجتماع 25 سال بعد ہارٹ فیلئر اور دل کی بائیں شریان بڑھ جانے کا باعث بن سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ درمیانی عمر میں نمکیات کی مقدار میں ہر ایک ایم ایم او ایل اضافہ آئندہ 25 برسوں میں ہارٹ فیلیئر اور بائیں شریان کے بڑھنے کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مناسب مقدار میں پانی پینا جان لیوا امراض سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج یورپی سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے۔

پانی  کو کم پینے کی عادت جان لیوا ہارٹ فیلیئر کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

Water ( پانی )

Drinking adequate amounts of water daily can reduce the risk of heart failure

Water is important for life, but drinking too little of it can lead to life-threatening heart failure.

This was revealed in a medical study conducted in the United States.

Research from the National Heart, Lung and Blood Institute has shown that drinking adequate amounts of water daily throughout life can reduce the risk of heart failure.

Research has shown that drinking adequate amounts of water can prevent or slow down the risk of heart failure.

The study said people should focus on drinking water on a daily basis and take steps to drink less.

Medical experts recommend that women drink 1.6 to 2.1 liters of water per day and men 2-3 liters, but most people drink less.

When people drink less water, the amount of salts accumulated in the body increases, which triggers the process that causes heart failure.

The researchers said that the accumulation of small amounts of salt for a long time is the result of drinking less water.

The study examined the accumulation of salts in the body in middle-aged people and predicted the risk of heart failure over the next 25 years.

The researchers also examined the relationship between drinking adequate amounts of water and the thickness of the left artery wall of the heart.

The study included more than 15,000 people between the ages of 44 and 66, and tested them five times until they were between 70 and 90 years old.

These people were divided into 4 groups according to the accumulation of salts.

Researchers have found that high salt intake in middle age can lead to heart failure and enlargement of the left artery of the heart after 25 years.

Every MMOL increase in salt intake in middle age increases the risk of heart failure and left artery enlargement over the next 25 years, he said.

He said that drinking adequate amount of water provides protection against deadly diseases.

The results of this study were presented at a conference of the European Society of Cardiology.

Visit My Youtube Channel.

Leave a Reply